لطف و انبساط

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - لذت و سرور، مسرت و خوشی، شاد مانی و فرحت۔ "ان کے ہاں فطرت کے مناظر سے لطف و انبساط اکتساب کرنے کا رجحان تو نظر آتا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، اردو میں سفر نامہ، ٢٣٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'لطف' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگا کر عربی سے ماخوذ اسم 'انبساط' لگانے سے مرکب عطفی 'لطف و انبساط' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٨٢ء کو "مری زندگی فسانہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لذت و سرور، مسرت و خوشی، شاد مانی و فرحت۔ "ان کے ہاں فطرت کے مناظر سے لطف و انبساط اکتساب کرنے کا رجحان تو نظر آتا ہے۔"      ( ١٩٨٧ء، اردو میں سفر نامہ، ٢٣٨ )

جنس: مذکر